مختصر خلاصہ
اس ویڈیو میں رفع الیدین کے مسئلے پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے احادیث کو سمجھنے کے لیے تمام متعلقہ روایات کو دیکھنا ضروری ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ نیز، تقلید کی اہمیت اور اس کے بغیر دین پر عمل کرنے کی مشکلات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
- حدیث کو سمجھنے کے لیے تمام متعلقہ روایات کو دیکھنا ضروری ہے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔
- تقلید کی اہمیت اور اس کے بغیر دین پر عمل کرنے کی مشکلات۔
گزشتہ درس کا خلاصہ
گزشتہ درس میں رفع الیدین کے مسئلے پر بات کی گئی تھی، جس پر اکثر اعتراضات ہوتے ہیں۔ بتایا گیا کہ رفع الیدین کا ثبوت احادیث میں موجود ہے، لیکن ہر حدیث پر عمل کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں جو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھے، اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو آپ نے کیے اور صحابہ نے بھی ان پر عمل کیا، انہیں سنت کہا جاتا ہے۔
مسئلہ کو حل کرنے کا طریقہ
کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کے لیے دونوں طرف کی بات سننا ضروری ہے۔ اسی طرح، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اعمال کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے رفع الیدین اور ترک رفع الیدین دونوں طرح کی روایات ملتی ہیں، اس لیے ان کے عمل کو دیکھنا ضروری ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے رفع الیدین کرنے اور نہ کرنے دونوں طرح کی روایات ملتی ہیں۔ اس صورت میں فیصلہ کیسے کیا جائے؟ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ کسی امام کی تقلید کی جائے، اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تحقیق کی جائے۔ لیکن تحقیق کرنے کا حق اس کو ہے جسے عربی آتی ہو، جس کے سامنے ساری احادیث ہوں، اور جو ناسخ و منسوخ کا علم رکھتا ہو۔
فقہاء کا احسان
فقہاء نے ہم پر احسان کیا کہ انہوں نے سارے مسائل نکال کر ہمارے سامنے رکھ دیے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے دونوں طرح کی حدیثیں تھیں، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد دیکھا گیا کہ وہ کیا کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ وہ پہلی تکبیر کے علاوہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حدیث
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی رفع الیدین کرنے کی حدیث نقل کی جاتی ہے۔ لیکن ان کے اپنے عمل کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف پہلی تکبیر کے وقت رفع الیدین کیا کرتے تھے۔ اس لیے ان کا بعد والا عمل قابل قبول ہوگا۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی رفع الیدین کی حدیث نقل کی جاتی ہے، لیکن وہ سات ہجری میں اسلام لائے تھے۔ ان کے شاگرد بتاتے ہیں کہ وہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع الیدین کرتے تھے۔ اس لیے ان کی وہ حدیث قابل قبول ہوگی جس میں وہ پہلی تکبیر کے وقت رفع الیدین کرنے کا ذکر کرتے ہیں۔
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نو ہجری میں اسلام لائے تھے، اور انہوں نے رفع الیدین کا ذکر کیا ہے۔ لیکن انہوں نے کانوں تک ہاتھ اٹھانے کا ذکر کیا ہے، سینے تک ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا۔ نیز، وہ سجدوں میں بھی رفع الیدین کرتے تھے، جو کہ اب نہیں کیا جاتا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل
اگر کوئی صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی عمل دیکھ کر چلا گیا اور پھر ساری زندگی واپس نہیں آیا، تو وہ اسی طرح عمل کرتا رہا۔ لیکن مہاجرین اور انصار کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قریب رکھتے تھے تاکہ وہ نماز کے اعمال کو سیکھیں اور دوسروں کو بتائیں۔
قربانی کے گوشت کی مثال
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے قربانی کے گوشت کے بارے میں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کے گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ لیکن بعد میں یہ حکم تبدیل ہو گیا، اور اب رکھنے کی اجازت ہے۔
خلاصہ کلام
حاصل کلام یہ ہے کہ جہاں دونوں صورتیں پائی جائیں، وہاں نتیجہ تب نکالیں گے جب بعد والا عمل ہمارے سامنے آئے گا۔ ایک صحابی سے دونوں حدیثیں ہوں تو نتیجہ تب نکلے گا جب تابعین کے عمل کو دیکھیں گے۔
رفع الیدین سے ممانعت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں دیکھ رہا ہوں، تم شریر گھوڑوں کی دم کی طرح اپنے ہاتھوں کو حرکت دیتے ہو۔ اپنی نماز میں سکون اختیار کرو۔
اعتراض اور اس کا جواب
اعتراض کیا جاتا ہے کہ رفع الیدین کی احادیث زیادہ پائی جاتی ہیں۔ لیکن کثرت حدیث کسی چیز کے سنت ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ جوتوں میں نماز پڑھنے کی حدیث 50 صحابہ نے نقل کی ہے، اور چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی حدیث 30 صحابہ نے نقل کی ہے۔
احادیث کی کثرت کی وجہ
احادیث کی کثرت کی وجہ یہ ہے کہ سارے محدثین انہی صحابہ سے حدیث نقل کر رہے ہیں جن سے رفع الیدین کی روایات ملتی ہیں۔ اس کی مثال یوں ہے کہ ایک بندے نے سر پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھی، اور اس واقعے کو گاؤں کے 50 بندوں نے نقل کیا۔
قرض کی مثال
ایک بندے نے کسی سے 4000 روپے قرض لیے اور 40 گواہ بنا لیے۔ پھر دو بندے اٹھ کر کہتے ہیں کہ اس نے قرض لیا تھا لیکن دے بھی دیا تھا۔ تو کس کی بات معتبر ہوگی؟
سفیان ثوری کی روایت
سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھ کر نہ دکھاؤں؟ آپ نے صرف پہلی تکبیر کے وقت رفع الیدین کی، اس کے بعد نہیں کی۔
ابوبکر بن عیاش کا وہم
اعتراض کیا جاتا ہے کہ مجاہد کی حدیث میں ابوبکر بن عیاش کو وہم ہو گیا تھا۔ لیکن ابوبکر بن عیاش بخاری کے راوی ہیں، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے ان سے بے شمار حدیثیں نقل کی ہیں۔
مکہ مدینہ والے رفع الیدین کیوں کرتے ہیں؟
اعتراض کیا جاتا ہے کہ مکہ مدینہ والے رفع الیدین کیوں کرتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ تقلید کرتے ہیں۔
تین امام ایک طرف، ایک امام ایک طرف
اعتراض کیا جاتا ہے کہ تین امام ایک طرف ہوں اور ایک امام ایک طرف ہوں تو کس کی بات ماننی چاہیے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چاروں آئمہ کہتے ہیں کہ تقلید واجب ہے۔
امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ
امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ نے صرف حدیث کو دیکھا، رجال کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے سند کے اعتبار سے حدیث کو دیکھا اور رفع الیدین پر عمل شروع کر دیا۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
علقمہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی اور ان سے پوچھا کہ آپ رفع الیدین کیوں نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی، وہ بھی نہیں کرتے تھے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے 10 صحابہ کو دیکھا جو عشرہ مبشرہ تھے، وہ رفع الیدین نہیں کرتے تھے۔

