Imam K Peeche Fateha Parhne Ka Taqeeqi Jaiza | Molana Muhammad Musab Umair Al-Hussaini

Imam K Peeche Fateha Parhne Ka Taqeeqi Jaiza | Molana Muhammad Musab Umair Al-Hussaini

مختصر خلاصہ

اس ویڈیو میں قیرات خلف الامام کے مسئلے پر گفتگو کی گئی ہے، یعنی امام کے پیچھے نماز میں قیرات کرنے کا حکم کیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ نماز پڑھنے والے تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں: اکیلے نماز پڑھنے والے، مقتدی بن کر نماز پڑھنے والے اور امام بن کر نماز پڑھانے والے۔ اختلاف اس بات پر ہے کہ مقتدی امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔

  • نکتہ اختلاف کو سمجھنا
  • ہر مسئلے میں اتفاقی اور اختلافی پہلو ہوتے ہیں
  • قرآن و سنت کی روشنی میں مسئلے کا حل تلاش کرنا

مقدمہ

مولانا محترم سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے قیرات خلف الامام کے مسئلے پر گفتگو کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔ قیرات خلف الامام کا مطلب ہے امام کے پیچھے نماز میں قیرات کرنا۔ اس مسئلے میں یہ دیکھنا ہے کہ جب امام قیرات کر رہا ہو، چاہے آواز آئے یا نہ آئے، تو مقتدی کو قیرات کرنی چاہیے یا نہیں۔

نقطہ اختلاف

نماز پڑھنے والے تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں: اکیلے نماز پڑھنے والا، مقتدی بن کر نماز پڑھنے والا اور امام بن کر نماز پڑھانے والا۔ اکیلے نماز پڑھنے والا تکبیر کے بعد ثناء، تعوذ، تسمیہ، سورہ فاتحہ اور سورت سب پڑھے گا۔ امام بھی یہ سارے کام کرے گا تو نماز ہوگی۔ اختلاف مقتدی میں ہے کہ وہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔

اتفاقی اور اختلافی پہلو

ہر مسئلے میں کچھ چیزیں اتفاقی ہوتی ہیں اور کچھ اختلافی۔ اگر اتفاقی باتیں سمجھ میں آجائیں تو اختلافی باتوں کو حل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی رحمہ اللہ کا ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے ایک عیسائی پادری سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر بحث کی۔

قرآن میں سورتوں کی تعداد

قرآن مجید میں 114 سورتیں ہیں۔ ان میں سے 113 سورتیں امام کے پیچھے نہیں پڑھی جاتیں۔ صرف سورہ فاتحہ کے بارے میں اختلاف ہے کہ اسے امام کے پیچھے پڑھنا چاہیے یا نہیں۔ اگر 113 سورتیں امام کے پڑھنے سے کافی ہو جاتی ہیں تو سورہ فاتحہ بھی کافی ہونی چاہیے۔

سورہ فاتحہ اور قرآن

سورہ فاتحہ کو اللہ تعالیٰ نے بطور مقدمہ کے نازل کیا ہے۔ یہ پورے قرآن کریم کا خلاصہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے کا ذکر ہے۔ یہ سارے مضامین سورہ فاتحہ میں جمع کر کے اللہ نے انہیں تیس پاروں میں کھول دیا ہے۔

قرآن کی تلاوت کے وقت خاموشی

قرآن کہتا ہے کہ جب قرآن کریم کی تلاوت کی جائے تو خاموش رہنا چاہیے۔ اس آیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ خطبے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ لیکن اگر یہ مان بھی لیا جائے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نماز میں قرات کی جا سکتی ہے۔

امام کی پیروی

امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے۔ اگر امام بھول جائے تو اس پر سجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے اور باقی سب پر بھی واجب ہو جاتا ہے۔ کیونکہ حدیث میں ہے کہ امام ضامن ہے۔

حدیث مبارکہ

حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ جس کا امام ہو، امام کی قرات اس کی قرات ہوتی ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قرات کرے تو تم خاموش رہو۔

صحابہ کرام اور تابعین کے اقوال

چار بڑے مراکز تھے اسلام کے: مکہ، مدینہ، کوفہ اور بصرہ۔ ان چاروں مراکز کے صحابہ کرام اور تابعین کا یہی مذہب تھا کہ جب نماز میں قرآن کریم پڑھا جائے تو پیچھے دھیان لگا کر سنو اور خاموش رہو۔

قرآت اور سورہ فاتحہ

حدیث میں آتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرات کے بغیر نماز نہیں ہوتی، اگرچہ وہ سورہ فاتحہ کی قرات کیوں نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ بھی قرات ہے۔

حدیث "لا صلاۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب"

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اکیلے نماز پڑھ رہا ہو اور وہ سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو اس کی نماز نہیں ہوگی۔

آخری دلیل

ایک صحابی مسجد میں آئے تو اذان ہو چکی تھی اور نماز کھڑی ہو چکی تھی۔ انہوں نے وضو کیا اور جب مسجد میں داخل ہوئے تو امام صاحب سورہ فاتحہ اور سورت پڑھ چکے تھے۔ وہ فوراً رکوع میں شامل ہو گئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ کے بغیر بھی رکعت ہو جاتی ہے اور امام کی فاتحہ کافی ہو جاتی ہے۔

خاتمہ

امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ پڑھنے سے نماز نہیں ہوتی، یہ کہنا غلط ہے۔ جب قرآن کریم کی تلاوت کی جائے تو پیچھے خاموش رہنا چاہیے اور کان لگا کر سننا چاہیے۔

Share

Summarize Anything ! Download Summ App

Download on the Apple Store
Get it on Google Play
© 2024 Summ