مختصر خلاصہ
اس ویڈیو میں مفتی کامران شاہزاد نے "ترک رفع الیدین" کے موضوع پر بات کی ہے۔ انہوں نے اس مسئلے پر دلائل اور استدلال کے مختلف طریقوں پر روشنی ڈالی ہے، خاص طور پر "عملِ تواتر" کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
- ترک رفع الیدین پر کوئی مضبوط دلیل موجود نہیں ہے۔
- عملِ تواتر، روایات سے استدلال سے زیادہ مضبوط ہے۔
- صحیح حدیث بھی اگر عملِ تواتر کے خلاف ہو تو اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔
رفع الیدین پر دلائل کی نوعیت
مفتی صاحب بتاتے ہیں کہ رفع الیدین کے مسئلے پر کوئی ایک مضبوط دلیل موجود نہیں ہے۔ اس مسئلے پر بحث کرنے والے اکثر لوگ استدلال کے اصولوں سے ناواقف ہوتے ہیں اور کم علمی کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں۔
عملِ تواتر کی اہمیت
مفتی صاحب اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگرچہ رفع الیدین پر کوئی صحیح حدیث موجود نہ بھی ہو، تب بھی یہ عمل جائز ہے کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ استدلال کے دو طریقے ہیں: ایک روایات سے استدلال اور دوسرا سنت سے استدلال۔
روایات سے استدلال بمقابلہ سنت سے استدلال
روایات سے استدلال یہ ہے کہ کسی مسئلے پر کوئی حدیث موجود ہو تو اس کے مطابق عمل کیا جائے۔ لیکن سنت سے استدلال یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عمل اپنی زندگی میں جاری رکھا، اس پر عمل کیا جائے۔ مفتی صاحب کے مطابق سنت سے استدلال، روایات سے استدلال سے زیادہ مضبوط ہے۔
قرآن پاک اور عملِ تواتر
مفتی صاحب مثال دیتے ہیں کہ قرآن پاک کی موجودہ شکل صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ عملِ تواتر سے ثابت ہے۔ اسی طرح، بہت سی صحیح احادیث ایسی ہیں جن کو علماء نے صرف اس لیے رد کر دیا ہے کیونکہ وہ عملِ تواتر کے خلاف تھیں۔
امام بخاری کی مثال
مفتی صاحب امام بخاری کی مثال دیتے ہیں کہ انہوں نے بہت سی صحیح احادیث کو صرف اس لیے قبول نہیں کیا کیونکہ وہ عملِ تواتر کے خلاف تھیں۔
قرآن کی آیت اور صحیح حدیث کا ٹکراؤ
مفتی صاحب ایک اور مثال دیتے ہیں کہ ایک صحیح حدیث میں یہ ذکر ہے کہ جب قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی: "و انذر عشیرتک الاقربین"، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام رشتہ داروں کو جمع کیا اور ان کو ڈرایا۔ لیکن قرآن پاک میں "عشیرتک الاقربین" کے الفاظ موجود نہیں ہیں۔ اس لیے علماء نے اس حدیث کو قبول نہیں کیا کیونکہ یہ عملِ تواتر کے خلاف تھی۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت
مفتی صاحب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت کا ذکر کرتے ہیں جس میں انہوں نے قرآن کی ایک آیت میں تبدیلی کی بات کی ہے۔ لیکن علماء نے اس روایت کو قبول نہیں کیا کیونکہ یہ عملِ تواتر کے خلاف تھی۔
صحابہ کرام کا عمل
مفتی صاحب ایک اور مثال دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی بیویوں کے ساتھ جماع کرنے کے لیے آزاد تھے۔ لیکن بعد میں علماء نے اس عمل کو حرام قرار دے دیا کیونکہ یہ عملِ تواتر کے خلاف تھا۔
امام مالک رحمہ اللہ کا فتویٰ
مفتی صاحب امام مالک رحمہ اللہ کا فتویٰ بیان کرتے ہیں کہ نماز میں صرف پہلی تکبیر کے وقت رفع الیدین کرنا سنت ہے، باقی رکوع میں رفع الیدین کرنا سنت نہیں ہے۔ اگرچہ اس مسئلے پر صحیح احادیث موجود ہیں، لیکن امام مالک رحمہ اللہ نے عملِ تواتر کی بنیاد پر ان احادیث کو رد کر دیا۔
خلاصہ کلام
مفتی صاحب آخر میں کہتے ہیں کہ ہمیں چاہیے کہ ہم دین کو سمجھنے کے لیے استدلال کے مختلف طریقوں کو سیکھیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عملِ تواتر، روایات سے استدلال سے زیادہ مضبوط ہے اور ہمیں عملِ تواتر کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے۔

