مختصر خلاصہ
اس ویڈیو میں مرزا غفار کی گمراہی اور نماز میں رکوع کے بعد ہاتھ اٹھانے کے مسئلے پر بات کی گئی ہے۔ ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ مرزا غفار گمراہ ہیں اور ان کی باتوں پر دھیان نہیں دینا چاہیے۔ اس کے علاوہ، نماز میں رکوع کے بعد ہاتھ اٹھانے کے حوالے سے صحابہ کرام کے عمل اور احادیث سے استدلال کیا گیا ہے۔
- مرزا غفار گمراہ ہیں، ان کی باتوں پر دھیان نہ دیں۔
- نماز میں رکوع کے بعد ہاتھ اٹھانا سنت ہے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے رکوع کے بعد ہاتھ اٹھانے کا ثبوت ملتا ہے۔
مرزا غفار کی گمراہی سے اجتناب
اس حصے میں ایک شخص کی جانب سے مرزا غفار کو چھوڑنے کی درخواست کی گئی ہے، کیونکہ وہ گمراہ ہیں۔ مقرر نے اس بات پر زور دیا کہ مرزا غفار کی پیروی کرنے کے بجائے صحیح علم حاصل کرنا چاہیے۔ نیز، اس بات کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ مرزا غفار کے پیروکار گمراہ کن باتیں پھیلا رہے ہیں۔
مالک بن حویرث اور وبرہ بن یوحنا کا اسلام قبول کرنا
اس حصے میں مالک بن حویرث اور وبرہ بن یوحنا رضی اللہ عنہما کے اسلام قبول کرنے کے وقت پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں صحابہ نے زندگی کے آخری حصے میں اسلام قبول کیا، لیکن اس بات پر بحث کی گئی ہے کہ کیا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رکوع کے بعد ہاتھ اٹھانے کی سنت کو ترک کر دیا تھا۔
ابن حجر عسقلانی کی روایت اور رکوع میں رفع یدین
ابن حجر عسقلانی کی ایک روایت کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں رکوع کے بعد ہاتھ اٹھانے کا ذکر ہے۔ اگر ان کے اسلام کو نو ہجری میں مان لیا جائے تو رکوع میں رفع یدین کو بھی ماننا پڑے گا۔ علامہ البانی اور شعیب ارناؤوط نے اس روایت کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
صحابہ کرام کا عمل اور رکوع کے بعد رفع یدین
اس حصے میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا کوئی ایسی حدیث موجود ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نو اور دس ہجری کے درمیان رکوع کے بعد رفع یدین کو ترک کر دیا تھا۔ اگر کوئی ایسی حدیث نہیں ہے تو پھر رکوع کے بعد رفع یدین کو منسوخ نہیں کہا جا سکتا۔
حدیث کا حوالہ اور رکوع کے شروع میں رفع یدین
حدیث نمبر 728 کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں وبرہ بن یوحنا رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے شروع میں رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا۔ اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ اگر ان دونوں صحابہ کو دلیل کے طور پر پیش کیا جائے تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ نو ہجری تک رکوع کے بعد رفع یدین جاری تھا۔
عبداللہ بن مسعود اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کا عمل
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل سے استدلال کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ اس سلسلے میں امام سیوطی کی ایک روایت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
دلیل اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمل سے استدلال کیا گیا ہے کہ وہ رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ اگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود کہہ رہے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے تو اس سے اس سنت کے جاری ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔

