مختصر خلاصہ
اس ویڈیو میں، مقررہ رب العالمین کی گہرائی میں اترتی ہیں، جس میں ربوبیت کے تصور اور اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ رب کا مطلب صرف پالنے والا نہیں ہے بلکہ مالک، سردار، پرورش کرنے والا، دینے والا اور برقرار رکھنے والا بھی ہے۔ مقررہ اس بات پر روشنی ڈالتی ہیں کہ کس طرح اللہ کی 99 صفات ربوبیت کے عمل میں کارفرما ہیں، جس میں تخلیق، رزق، مہربانی، حکمت اور صبر شامل ہیں۔ وہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اللہ کا رحم بے شرط اور لامحدود ہے، جو تمام جہانوں پر محیط ہے۔
- رب کا مطلب صرف پالنے والا نہیں ہے بلکہ مالک، سردار، پرورش کرنے والا، دینے والا اور برقرار رکھنے والا بھی ہے۔
- اللہ کی 99 صفات ربوبیت کے عمل میں کارفرما ہیں۔
- اللہ کا رحم بے شرط اور لامحدود ہے، جو تمام جہانوں پر محیط ہے۔
تمہید
مقررہ دعا کے ساتھ شروع کرتی ہیں، اللہ سے علم میں اضافے کی التجا کرتی ہیں۔
رب العالمین کا مفہوم
مقررہ رب العالمین کے فقرے کا تجزیہ کرتی ہیں، جس کا ترجمہ "تمام جہانوں کا پالنے والا" کیا جاتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ رب کا لفظ ر ب ب سے ماخوذ ہے اور اس کا مطلب مالک ہے۔ اگرچہ یہ لفظ کسی انسان کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے، لیکن جب یہ عالمین کے ساتھ آتا ہے تو یہ خاص طور پر اللہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ عالمین ایک جمع ہے جس کا واحد عالم ہے، جس کا مطلب ہے ایک جہان یا دنیا۔ جمع کی دو قسمیں ہیں: عالمون اور عالمین۔ عالمین عقل والوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
عالمین کی وضاحت
مقررہ عالمین کی مزید وضاحت کرتی ہیں، بتاتی ہیں کہ یہ لفظ ع ل م سے ماخوذ ہے اور اس کا مطلب ہے اللہ کی پہچان کا ذریعہ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عالمین سے مراد ہر وہ چیز ہے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے، جس میں جن، انس، فرشتے، حیوانات، نباتات، آسمان اور زمین سب شامل ہیں۔ اگرچہ عالمین جمع مذکر سالم ہے اور عقل والوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن یہاں تغلیب کی گئی ہے اور اس میں عقل والے اور غیر عقل والے دونوں شامل ہیں۔ قرآن کا موضوع جن و انس ہے، اس لیے یہاں عقل والوں کو ترجیح دی گئی ہے۔
رب اور عالم کے درمیان تعلق
مقررہ رب اور عالم کے درمیان تعلق کو بیان کرتی ہیں، بتاتی ہیں کہ رب آقا ہے اور عالم غلام ہے۔ یہ انسان اور اللہ کے درمیان ایک رشتہ ہے، جہاں اللہ آقا ہے اور انسان اس کا غلام ہے۔ رب کا مطلب مالک، طاقتور اور سب پر حاوی شخصیت ہے۔ تاہم، مالک ظالم، بے پرواہ یا خوف کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے قرآن رحمان کا اضافہ کرتا ہے، جس کا مطلب ہے محبت کرنے والا۔ اس طرح، اللہ ایک محبت کرنے والا آقا ہے، جس کا رحم کرنا اس کی فطرت میں ہے۔
ربوبیت کے مختلف پہلو
مقررہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ رب کا مطلب صرف پالنے والا نہیں ہے بلکہ اس میں بہت کچھ شامل ہے۔ جب ہم رب کی بات کرتے ہیں تو ہم المالک (ملکیت رکھنے والا)، السید (سردار)، المربی (پرورش کرنے والا)، المعنم (دینے والا) اور القیم (برقرار رکھنے والا) کی بات کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہماری زندگی کا کوئی بھی پہلو اللہ کی ربوبیت سے باہر نہیں ہے۔ رب ہر جہان کا ہے اور وہ ہمارے چھوٹے چھوٹے مسائل سے غافل نہیں ہو سکتا۔
اللہ کی صفات اور ربوبیت
مقررہ بتاتی ہیں کہ ربوبیت کے پیچھے اللہ کی 99 صفات کام کر رہی ہوتی ہیں۔ جب اللہ کسی کی پرورش کرتا ہے تو اس کی کئی صفات عملی طور پر گزرتی ہیں، جیسے الخالق (بنانے والا)، الرازق (رزق دینے والا)، اللطیف (مہربان)، الحکیم (حکمت والا) اور الصبور (صبر کرنے والا)۔
ربوبیت اور والدین
مقررہ ربوبیت کو والدین کی مثال سے سمجھاتی ہیں۔ جس طرح ایک باپ اپنی اولاد کی پرورش محبت کے ساتھ کرتا ہے، اسی طرح اللہ بھی اپنی مخلوق کی پرورش کرتا ہے۔ باپ خاموشی سے جدوجہد کرتا ہے اور اپنی اولاد کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اسی طرح، اللہ بھی ہماری ضروریات کو پورا کرتا ہے اور ہم پر رحم کرتا ہے۔
اللہ کا رحم
مقررہ اس بات پر زور دیتی ہیں کہ انسان کا رحم ناقص اور محدود ہو سکتا ہے، لیکن اللہ کا رحم لامحدود ہے۔ اللہ ہر حال میں ہم پر رحم کرنے والا ہے۔ وہ کسی شرط کے بغیر تمام جہانوں کا رب ہے۔ وہ کافروں کو بھی رزق دیتا ہے اور ان پر مہربان ہے۔
اختتامی کلمات
مقررہ ہمیں اس بات پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہیں کہ ہم جو سانس لے رہے ہیں وہ اللہ کی اجازت سے ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنا اختیار استعمال کرے اور یہ سانس روک لے، ہمیں اس کے فرمانبردار اور شکر گزار بندے بن جانا چاہیے۔

