مختصر خلاصہ
اس ویڈیو میں ڈینس ویٹلی کامیابی کے حصول کے لیے ذہن کی طاقت کو استعمال کرنے کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس طرح کامیاب لوگ تھرموسٹیٹ کی طرح ہوتے ہیں جو اپنی کامیابی کا درجہ حرارت خود طے کرتے ہیں، جبکہ ناکام لوگ تھرمامیٹر کی طرح حالات پر ردعمل دیتے ہیں۔
- تخیل اور جذبے کو حقیقت میں بدلنے کی اہمیت
- خوف پر قابو پانے اور مثبت یادوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت
- اہداف کا تعین کرنے اور ذہنی مشق کے ذریعے کامیابی کی تیاری کی اہمیت
تعارف
اکثر لوگ حالات پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں، لیکن کامیاب لوگ اپنی کامیابی کا درجہ حرارت خود طے کرتے ہیں۔ ڈینس ویٹلی بتاتے ہیں کہ کس طرح ذہن تصورات کو حقیقت بناتا ہے، اولمپینز اور خلاباز کامیابی کی مشق کیسے کرتے ہیں، اور خوف کو چھوڑ کر کیسے آغاز کیا جا سکتا ہے۔
بچپن اور رول ماڈلز کی اہمیت
ڈینس ویٹلی اپنے بچپن کے مشکل حالات کا ذکر کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کس طرح انہوں نے ایسے کوچز تلاش کیے جنہوں نے انہیں اپنی اصل سے بہتر بننے کا حوصلہ دیا۔ ان کی دادی نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور انہیں احساس دلایا کہ وہ کچھ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وکٹری گارڈن سے سیکھا کہ جو بوؤ گے وہی کاٹو گے، اور خدمت گزاروں جیسی زندگی گزارنے سے کامیابی ملتی ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ آپ وہی بن جاتے ہیں جن کے ساتھ آپ زیادہ وقت گزارتے ہیں۔
تخیل اور حقیقت
ڈینس ویٹلی کا کہنا ہے کہ تخیل اور جذبہ مل کر حقیقت بنتے ہیں۔ وہ خلا بازوں اور قیدیوں کی مثالیں دیتے ہیں جنہوں نے اندر سے جیت حاصل کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ آپ کے ذہن میں موجود پروگرام ہی آپ کی زندگی کو چلاتا ہے، اس لیے اقدار کو اپنے اندر جذب کرنا ضروری ہے۔ آپ اپنی پسند ناپسند میں نہیں الجھ سکتے، کیونکہ اس سے صرف آپ کا ماضی مضبوط ہوتا ہے۔
ذہن اور حقیقت کا تعلق
دماغ تصور اور حقیقت میں فرق نہیں کر پاتا۔ ہم خیالی باتوں یا ڈر کو سچ مان کر محفوظ کر لیتے ہیں۔ کامیاب لوگ اچھی یادوں کو مضبوط کرتے ہیں، غلطیوں سے سیکھتے ہیں، اور ایسا مستقبل سوچتے ہیں جو ان کا ہدف بن جائے۔ دماغ ہمیشہ موجودہ غالب خیال کی طرف بڑھتا ہے۔
مشق اور تیاری کی اہمیت
مشق مستقل بناتی ہے، اور صرف صحیح مشق ہی بہترین بناتی ہے۔ اولمپینز میدان میں ریہرسل اور مشق کرتے ہیں۔ وہ بار بار صحیح مشق کرتے ہیں اور غلطی ہونے پر اسے درست کرتے ہیں۔ جب وہ جیتنے کا صحیح طریقہ مشق کرتے ہیں، تو پرفارم کرنے جاتے وقت انہیں صرف یاد کرنا ہوتا ہے۔
ماضی سے سیکھنا
ڈینس ویٹلی کہتے ہیں کہ وہ ایسے سایہ دار درخت لگانا چاہتے ہیں جن کے نیچے وہ کبھی نہیں بیٹھیں گے۔ وہ آنے والی نسلوں اور مستقبل کے لیے درخت لگانا چاہتے ہیں۔ تاریخ سے سبق نہ سیکھنے پر ہم اسے دہراتے ہیں۔ ہمیں ان سے سیکھنا چاہیے جو پہلے گزر چکے ہیں۔
کامیاب اور ناکام لوگوں میں فرق
کامیاب لوگ صلے کو دیکھتے ہیں، جبکہ ناکام لوگ سزا کا سوچتے ہیں۔ کامیاب لوگ نتیجے پر نظر رکھتے ہیں، جبکہ ناکام لوگ ماضی کے ڈر میں رہتے ہیں۔ وہ ہمیشہ وہی پاتے ہیں جس کی توقع رکھتے ہیں، کیونکہ توقعات نفسیاتی طور پر بہت طاقتور ہوتی ہیں۔
ذہن اور جسم کا تعلق
ذہن اور جسم کا تعلق اتنا پیچیدہ ہے کہ جو کچھ آپ کے ذہن میں ہوتا ہے، وہ جسم میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ السر کھانے سے نہیں، ذہنی تناؤ سے ہوتا ہے۔ صحت اور خیالات میں براہِ راست تعلق ہے۔ تندرستی کے لیے مثبت رویہ رکھنا اور صرف بیماری پر قابو پانے کے بجائے صحت یابی کا انتظار کرنا ضروری ہے۔
جنگی قیدیوں کی مثال
ویتنامی جنگی قیدیوں نے صحت مند رہنے کے لیے اپنی زندگی کی ہر اچھی بات کو یاد کیا۔ ایئر فورس کرنل نے ساڑھے پانچ سال روزانہ ذہن میں گالف کا بہترین راؤنڈ کھیلا۔ اگر دماغ تخیل اور حقیقت میں فرق نہ کر پائے، تو وہ آپ کے کھیل کو حقیقت مان لیتا ہے۔
خلابازوں کی تربیت
خلاباز سیمولیشن کے ذریعے تربیت حاصل کرتے ہیں۔ وہ چاند پر جانے کو ممکن حد تک حقیقت کے قریب بناتے ہیں۔ ٹریننگ میں انہیں صحرا میں لونر ایکسکرشن ماڈیول میں بٹھا کر اوپر نیچے اڑاتے ہیں۔ پھر انہیں پانی میں ڈالتے ہیں تاکہ وہ بے وزنی محسوس کریں۔
حوصلہ اور تیاری
حوصلہ اچھی تیاری سے آتا ہے۔ بم ڈسپوزل والا ماہر ہوتا ہے اور ڈر کے باوجود بھی بہادر ہوتا ہے، کیونکہ تربیت اتنی بہترین ہوتی ہے کہ انہیں نتیجے پر پورا اعتماد ہوتا ہے۔ 'نو ٹرین، نو گین'، بجائے اس کے کہ 'نو پین، نو گین'۔
ذہنی مشق کی طاقت
کامیاب لوگ ذہنی مشق کے ذریعے خود کو تیار رکھتے ہیں۔ وہ یہ برف پر، پہاڑی پر اور خلا باز کیپسول میں بھی کرتے ہیں۔ ذہنی مشق کی خوبی یہ ہے کہ آپ ناکام نہیں ہوتے۔ آپ کامیابی کا بار بار تصور کرتے ہیں۔
واضح اہداف کی اہمیت
دماغ مبہم کام نہیں کرتا۔ اسے خوش، پُرسکون رہنے یا پچھلے سال سے بہتر بننے کا مطلب نہیں پتا۔ یہ ڈیٹا، حدود اور ڈیڈ لائنز کا معاملہ ہے۔ آپ جتنے واضح ہوں گے کہ کہاں جانا ہے، اتنا ہی آسان ہوگا کہ آپ کا دماغ وہاں لے جائے۔
قلیل مدتی اہداف
اولمپینز کے ساتھ بھی نوے دن کے قلیل مدتی اہداف طے کرتے ہیں۔ تین ماہ ذہن میں رکھنا آسان ہے۔ نوے دن میں رکاوٹ نہیں آتی، تو نوے دن کا قلیل مدتی ہدف طے کریں۔ مادی اہداف پر ڈیڈ لائن لگائیں، کیونکہ یہ آپ کو عمل پر اکسائے گی۔ غیر مادی اہداف پر کبھی آخری تاریخ نہ لگائیں۔
حال میں رہنا
دماغ یادداشت میں ان چیزوں کو حقیقت مانتا ہے جنہیں آپ اہمیت دیتے ہیں۔ اس لیے برسوں سے مقررین اور موٹیویٹرز نے تصدیقی، حالیہ، ذاتی اور پُرامید انداز استعمال کیا، جیسے کہ 'میں ہوں، میں بن رہا ہوں'۔ ویسا بننے کے لیے حالیہ جملے استعمال کریں، اور دماغ آپ کو وہاں جلد پہنچنے میں مدد دے گا۔
پرسکون مشق
اُس وقت مشق اور ریہرسل کریں جب آپ بہت پُرسکون ہوں۔ جتنا آپ پُرسکون ہوں گے، اتنا ہی ممکن ہے کہ دماغ کے دونوں حصے کام کریں۔ سکون میں وہ آپ کو بیرونی محرکات سے نہیں بچاتا۔ آپ پُرسکون اور مرکوز ہیں، آپ کی توجہ مکمل ہے، اور اب آپ ہلکی موسیقی سنتے ہیں۔
موسیقی کی اہمیت
موسیقی جذباتی ہوتی ہے اور کھانے کے بعد سب سے زیادہ تحریک دیتی ہے۔ موسیقی میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ دل کی دھڑکن اور آپ کے سوچنے کے انداز کو تیز یا سست کر سکتی ہے۔ آہستہ، کلاسیکی موسیقی سنیں۔
جیت ہار سے آگے
جیت ہار کے بھی کئی درجے ہیں۔ پسماندہ ممالک کے لوگ اور غریبوں کو ہارنے والا نہیں کہا جا سکتا۔ انہیں کبھی وہ مواقع نہیں ملے جو ہمیں علم پر مبنی دنیا میں ملے ہیں۔ کامیاب لوگ اپنی زندگی کے بارے میں کیسے بات کرتے ہیں اور اسے کیسے پیش کرتے ہیں، یہ انہیں ناکام لوگوں سے ممتاز کرتا ہے۔
تھرمامیٹر بمقابلہ تھرمو اسٹیٹ
تھرمامیٹر باہر کا درجہ حرارت بتاتا ہے، لیکن تھرمو اسٹیٹ ایک ایسا آلہ ہے جسے آپ خود سیٹ کرتے ہیں۔ دماغ خودکار ہے؛ جو سیٹ کریں گے وہی ملے گا اور جو دیکھیں گے وہی بنیں گے۔ آپ کی باتیں تبصرہ اور پھر اسکرپٹ بن جاتی ہیں، جسے اداکار ادا کرتے ہیں۔
منفی خیالات سے بچنا
بچوں سے بات کرتے ہوئے احتیاط کریں۔ انہیں چوٹ نہ لگنے کا کہتے وقت محتاط رہیں۔ جو بھی کرو، دباؤ مت ڈالو۔ جسمانی خطرہ نہ ہونے پر خود کو یہ نہ کہیں کہ آپ کیا نہیں چاہتے، کیونکہ دماغ الٹ خیال پر توجہ نہیں دے سکتا۔
صلاحیت اور حدود
صلاحیتیں پیدائشی ہیں، جبکہ رویہ اور کارکردگی سیکھی جاتی ہے۔ ہمارے پاس بے پناہ صلاحیت ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنی بنائی حدود سے آگے نہیں بڑھتے، بس نئی حدیں طے کرتے ہیں جن میں ہمیں جینا ہے۔
نفسیاتی حدود
نفسیاتی اور ماحولیاتی حدود کی وجہ سے، جب کہ حقیقت میں چیزیں کرنے کی جسمانی صلاحیت پر کوئی خاص حد نہیں ہوتی۔ ہم اپنی زندگی میں شاذ و نادر ہی اپنی جسمانی حدود تک پہنچتے ہیں۔
اختتامیہ
تھرمامیٹر بمقابلہ تھرمو اسٹیٹ۔ درحقیقت میں ایک تھرمو اسٹیٹ ہوں جو خود اپنا درجہ حرارت طے کرتا ہے اور مسلسل اس معیار تک پہنچنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔ آپ کو دیکھنا چاہیے کہ اصل حدیں یہاں ہیں، جنہیں ہم شاذ و نادر ہی آزماتے ہیں۔

